حدیث نمبر: 15507
قَالَ ابْنُ هِشَامٍ : وَكَانَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ قَدِمَ مِنَ الشَّامِ بِزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَصِيفًا ، فَاسْتَوْهَبَتْهُ مِنْهُ عَمَّتُهُ : خَدِيجَةُ ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَهَبَهُ لَهَا فَوَهَبَتْهُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْتَقَهُ وَتَبَنَّاهُ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ وَقَدِمَ أَبُوهُ وَهُوَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ شِئْتَ فَأَقِمْ مَعِي ، وَإِنْ شِئْتَ فَانْطَلِقْ مَعَ أَبِيكَ ؟ " . قَالَ : لَا . بَلْ أُقِيمُ عِنْدَكِ ، فَلَمْ يَزَلْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَعَثَهُ اللَّهُ فَصَدَّقَهُ ، وَأَسْلَمَ وَصَلَّى مَعَهُ ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : ( ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ ) . قَالَ : أَنَا زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

ابن ہشام بیان کرتے ہیں : سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ شام سے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مزدور کے طور پر ساتھ لائے تھے ، سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ کی پھوپھی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے وہ مزدور مانگ لیا ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اُس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ تھیں ، سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ نے وہ غلام سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے وہ غلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے آزاد کر کے اُسے منہ بولا: بیٹا بنا لیا ، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے ۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، سیدنا زید رضی اللہ عنہ ان دنوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم چاہو تو میرے ساتھ ٹھہرے رہو ، اور اگر تم چاہو تو اپنے والد کے ساتھ چلے جاؤ ، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی نہیں ! بلکہ میں آپ کے ساتھ رہوں گا ۔ تو وہ مسلسل ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ، یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا ، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی ، جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” تم انہیں ان کے حقیقی باپوں کی نسبت سے بلاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: میں زید بن حارثہ ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15507
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4651)»