مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَبَّاسِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَنْ جُمِعَ مَعَهُ مِنْ وَلَدِهِ باب: نبی اکرم ﷺ کے چچا ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے ہمراہ ان کی اولاد کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15468
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلْعَبَّاسِ : أَسْلِمْ ; فَوَاللَّهِ لَأَنْ تُسْلِمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُسْلِمَ الْخَطَّابُ . وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِأَنَّهُ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلِمْ يَكُنْ لَكَ سَبْقُكَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اسلام قبول کر لیں ، اللہ کی قسم ! آپ کا اسلام قبول کرنا میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ ( میرے والد ) ” خطاب “ مسلمان ہو جاتے ، اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک یہ بات زیادہ محبوب ہے ، تو آپ اسلام قبول کر لیں ، اس طرح آپ کو سبقت حاصل ہو جائے گی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن ابان ہے اور وہ متروک ہے ۔