مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ رَبِيبَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - باب: سیدہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم ﷺ کی سوتیلی صاحبزادی ہیں ان کا تذکرہ
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَتْ أُمِّي إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَغْتَسِلُ تَقُولُ : اذْهَبِي فَادْخُلِي ، قَالَتْ : فَدَخَلْتُ فَنَضَحَ فِي وَجْهِي بِالْمَاءِ ، وَقَالَ : " ارْجِعِي " . ¤ قَالَ الْعَطَّافُ : قَالَتْ أُمِّي : فَرَأَيْتُ وَجْهَ زَيْنَبَ وَهِيَ عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ مَا نَقَصَ مِنْ وَجْهِهَا شَيْءٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأُمُّ عَطَّافٍ لَمْ أَعْرِفْهَا . ¤سیده زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غسل کر رہے تھے میری والدہ نے کہا: تم ابھی چلی جاؤ ، پھر تھوڑی دیر بعد آنا ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر جب میں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر پانی چھڑکا اور آپ نے فرمایا : تم واپس چلی جاؤ ۔ عطاف نامی راوی بیان کرتے ہیں : میری والدہ بیان کرتی ہیں : میں نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا چہرہ دیکھا ہے وہ ایک بوڑھی عمر رسیدہ خاتون تھیں لیکن ان کے چہرے میں کوئی کمی نہیں آئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عطاف نامی راوی کی والدہ سے میں واقف نہیں ہوں ۔