حدیث نمبر: 15378
وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ صَفِيَّةَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " مَا تَقُولُونَ فِي هَذِهِ الْجَارِيَةِ ؟ " . قَالُوا : نَقُولُ : إِنَّكَ أَوْلَى النَّاسِ بِهَا وَأَحَقُّهُمْ . قَالَ : " فَإِنِّي أَعْتَقْتُهَا وَاسْتَنْكَحْتُهَا ، وَجَعَلْتُ عِتْقَهَا مَهْرَهَا " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْوَلِيمَةُ . قَالَ : " الْوَلِيمَةُ حَقٌّ ، وَالثَّانِيَةُ مَعْرُوفٌ ، وَالثَّالِثَةُ فَخْرٌ وَحَرَجٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا مال فے کے طور پر دے دیں تو آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ اس کنیز کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ تو لوگوں نے کہا: ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ اس خاتون کے بارے میں لوگوں سے زیادہ لائق ہیں اور زیادہ حق رکھتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر میں اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لیتا ہوں اور اس کی آزادی کو اس کا مہر بنا دیتا ہوں ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ولیمہ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ولیمہ حق ہے ، اور دوسرے دن ( کھانا کھلانا ) نیکی ہے اور تیسرے دن فخر ہے ، اور گناہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15378
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (136/22)»