مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَضِيَ عَنْهَا باب: نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے مناقب کا بیان
وَعَنْ رَزِينَةَ قَالَتْ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ ، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ وَذِرَاعُهَا فِي يَدِهِ ، فَلَمَّا رَأَتِ السَّبْيَ قَالَتْ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَأَرْسَلَ ذِرَاعَهَا مِنْ يَدِهِ ، وَأَعْتَقَهَا ، وَخَطَبَهَا ، وَتَزَوَّجَهَا ، وَأَمْهَرَهَا زُرْبَيَّةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ مِنْ طَرِيقِ عَلِيلَةَ بِنْتِ الْكُمَيْتِ ، عَنْ أُمِّهَا أَمِينَةَ ، عَنْ أَمَةِ اللَّهِ بِنْتِ رَزِينَةَ ، وَهَؤُلَاءِ الثَّلَاثُ لَمْ أَعْرِفْهُنَّ . وَبَقِيَّةُ إِسْنَادِهِ ثِقَاتٌ ، وَهُوَ مُخَالِفٌ لِمَا فِي الصَّحِيحِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤سیدہ رزینہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جنگ قریظہ اور جنگ نضیر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو لے آئے ، ان کی کلائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھی ، جب انہوں نے قیدیوں کو دیکھا تو یہ کہا: میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ان کی کلائی چھوڑ دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا ، انہیں شادی کا پیغام دیا اور پھر ان کے ساتھ شادی کر لی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مہر کے طور پر ( ٹیک لگانے والا ) تکیہ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت علیلہ بنت کمیت کے حوالے سے ان کی والدہ امینہ سے نقل کی ہے ، اور ان کے حوالے سے امۃ اللہ بنت رزینہ سے نقل کی ہے ، اور ان تینوں خواتین سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس کی سند کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور
یہ روایت اس روایت کے برخلاف ہے جو صحیح میں مذکور ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔