حدیث نمبر: 15373
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ بِعَيْنَيْ صَفِيَّةَ خُضْرَةٌ ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا هَذِهِ الْخُضْرَةُ بِعَيْنَيْكِ ؟ " . قَالَتْ : قُلْتُ لِزَوْجِي : إِنِّي رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّ قَمَرًا وَقَعَ فِي حِجْرِي ، فَلَطَمَنِي وَقَالَ : أَتُرِيدِينَ مَلِكَ يَثْرِبَ ؟ قَالَتْ : أَتُرِيدِينَ مَلِكَ يَثْرِبَ ؟ وَمَا كَانَ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَتَلَ أَبِي وَزَوْجِي ، فَمَا زَالَ يَعْتَذِرُ إِلَيَّ ، وَقَالَ : " يَا صَفِيَّةُ ، إِنَّ أَبَاكِ أَلَّبَ عَلَيَّ الْعَرَبَ ، وَفَعَلَ وَفَعَلَ " . حَتَّى ذَهَبَ ذَلِكَ مِنْ نَفْسِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی آنکھوں کا رنگ سبز تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : یہ تمہاری آنکھوں کا رنگ سبز کس وجہ سے ہے ، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے یہ کہا: کہ میں نے اپنے سابقہ شوہر سے یہ کہا: کہ میں نے خواب میں یہ دیکھا کہ جیسے چاند میری گود میں آ گیا ، تو اس نے مجھے تھپڑ مارا اور بولا: کیا تم یثرب کے بادشاہ سے شادی کرنا چاہتی ہو ، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں اس وقت میرے نزدیک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ناپسندیدہ اور کوئی نہیں تھا ، جنہوں نے میرے والد اور میرے شوہر کو قتل کروایا تھا ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل میرے سامنے وجہ بیان کرتے رہے ، آپ نے فرمایا : اے صفیہ ! تمہارے والد نے عربوں کو میرے خلاف کرنے کی کوشش کی تھی اور یہ کیا تھا اور وہ کیا تھا ، یہاں تک کہ یہ چیز میرے دل سے رخصت ہو گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15373
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (67/24)»