حدیث نمبر: 15353
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَزَى أَنَّ عُمَرَ كَبَّرَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ أَرْبَعًا ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ يُدْخِلُ هَذِهِ قَبْرَهَا ؟ فَقُلْنَ : مَنْ كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا فِي حَيَاتِهَا . ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَسْرَعُكُنَّ بِي لُحُوقًا أَطْوَلُكُنَّ يَدًا " . فَكُنَّ يَتَطَاوَلْنَ بِأَيْدِيهِنَّ ، وَإِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ لِأَنَّهَا كَانَتْ صَنَّاعًا تُعِينُ بِمَا تَصْنَعُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عبدالرحمن بن ابزیٰ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ میں چار تکبیریں پڑھیں ، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو پیغام بھیج کر دریافت کیا کہ انہیں قبر میں کون اتارے گا ، تو ان ازواج نے بتایا کہ جو شخص ان کی زندگی میں ان کے ہاں آیا کرتا تھا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سے مجھ سے پہلے وہ ملے گی ، جس کے ہاتھ زیادہ لمبے ہوں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے اپنے ہاتھوں کی پیمائش کی ، حالانکہ اصل بات تھی کہ سیده زینب رضی اللہ عنہا کام کرتی تھیں اور اپنے کیے ہوئے کام کے معاوضے کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتی تھیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15353
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2667)»