مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا باب: نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ [بَيْتَ] زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، فَاسْتَأْذَنَ ، فَأَذِنَتْ لَهُ زَيْنَبُ وَلَا خِمَارَ عَلَيْهَا ، فَأَلْقَتْ كُمَّ دِرْعِهَا عَلَى رَأْسِهَا ، فَسَأَلَهَا عَنْ زَيْدٍ ، فَقَالَتْ : ذَهَبَ قَرِيبًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَهُ هَمْهَمَةٌ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : فَاتَّبَعْتُهُ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " تَبَارَكَ مُصَرِّفُ الْقُلُوبِ " . فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى تَغَيَّبَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَبَعْضُهُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ كَمَا تَرَاهُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤ابوبکر بن سلیمان بن ابوحثمہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے ، آپ نے اندر آنے کے لئے اجازت طلب کی ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے آپ کو اجازت پیش کی ، ان کے سر پر اس وقت چادر نہیں تھی ، انہوں نے اپنی آستین اپنے سر پر رکھ لی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا : یا رسول اللہ ! وہ تھوڑی دور گئے ہیں ( یا تھوڑی دیر پہلے گئے ہیں ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے ، آپ کے کچھ کہنے کی ہلکی آواز آئی ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں آپ کے پیچھے گئی تو میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ” برکت والی ہے وہ ذات جو دلوں کو پھیر دیتی ہے “ آپ مسلسل یہ کلمات کہتے رہے ، یہاں تک کہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کا کچھ حصہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے جیسا کہ آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی اور اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔