مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا باب: نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے فضائل کا بیان
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّهُ أَتَاهَا فَلَفَّ رِدَاءَهُ وَوَضَعَهُ عَلَى أُسْكُفَّةِ الْبَابِ ، وَاتَّكَأَ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : "هَلْ لَكَ يَا أُمَّ سَلَمَةَ ؟ " . قَالَتْ : إِنِّي امْرَأَةٌ شَدِيدَةُ الْغَيْرَةِ ، وَأَخَافُ أَنْ يَبْدُوَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنِّي مَا يَكْرَهُ . فَانْصَرَفَ ثُمَّ عَادَ ، فَقَالَ : " هَلْ لَكِ يَا أُمَّ سَلَمَةَ ؟ إِنْ كَانَ بِكِ الزِّيَادَةُ فِي صَدَاقِكِ زِدْنَا ؟ " . فَعَادَتْ لِقَوْلِهَا . فَقَالَتْ أُمُّ عَبْدٍ : يَا أُمَّ سَلَمَةَ ، تَدْرِينَ مَا يَتَحَدَّثُ بِهِ نِسَاءُ قُرَيْشٍ ؟ يَقُلْنَ : إِنَّ أُمَّ سَلَمَةَ إِنَّمَا رَدَّتْ مُحَمَّدًا ; لِأَنَّهَا تُرِيدُ شَابًّا مِنْ قُرَيْشٍ أَحْدَثَ مِنْهُ سِنًّا ، وَأَكْثَرَ مِنْهُ مَالًا ! قَالَ : فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَزَوَّجَهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي فَضْلِ أَهْلِ الْبَيْتِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهَا : " إِنَّكِ عَلَى خَيْرِهِ " . ¤سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ، آپ نے اپنی چادر موڑ کر دروازے کی چوکھٹ پر رکھی اور اس کے ساتھ ٹیک لگا لی اور فرمایا : ام سلمہ ! کیا تمہیں اس میں دلچسپی ہے ، انہوں نے عرض کی : میں ایک ایسی خاتون ہوں جس کے مزاج میں تیزی ہے ، مجھے اندیشہ ہے کہ شاید میں اللہ کے رسول کے سامنے کوئی ایسی حرکت کر دوں گی جو انہیں ناگوار گزرے گی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گئے ، پھر آپ تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : اے اُم سلمہ ! کیا تمہیں اس بات میں دلچسپی ہے ( کہ تم میرے ساتھ شادی کر لو ) اگر تم مہر میں اضافہ چاہو تو ہم مزید دے دیں گے ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بات دہرا دی ، سیدہ ام عبد رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ام سلمہ ! کیا تم جانتی ہو قریش کی خواتین کیا بات چیت کر رہی ہیں وہ یہ کہہ رہی ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو اس لئے قبول نہیں کیا کیونکہ وہ قریش کے کسی نوجوان سے شادی کرنا چاہتی ہیں جو زیادہ کمسن ہو اور جس کے پاس زیادہ مال ہو ۔ راوی کہتے ہیں پھر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ شادی کر لی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے فضائل سے متعلق باب میں یہ بات گزر چکی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا : ” تم اس بھلائی پر ہو ۔ “