حدیث نمبر: 15327
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَمَّا رَأَيْتُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طِيبَ نَفْسٍ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ لِي قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَائِشَةَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهَا وَمَا تَأَخَّرَ ، وَمَا أَسَرَّتْ وَمَا أَعْلَنَتْ " . ¤ فَضَحِكَتْ عَائِشَةُ حَتَّى سَقَطَ رَأْسُهَا فِي حِجْرِهَا مِنَ الضَّحِكِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيَسُرُّكِ دُعَائِي ؟ " . فَقَالَتْ : وَمَا لِي لَا يَسُرُّنِي دُعَاؤُكَ ؟ فَقَالَ : " وَاللَّهِ إِنَّهَا لَدَعْوَتِي لِأُمَّتِي فِي كُلِّ صَلَاةٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيَّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کو خوشگوار دیکھا تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے دعا کیجئے ، آپ نے فرمایا : ” اے اللہ ! تو عائشہ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دے اور جو اس نے پوشیدہ طور پر کیا یا جو اعلانیہ طور پر کیا ( اس کی بھی مغفرت کر دے ) ۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہنس پڑیں ، یہاں تک کہ ہنسنے کی شدت کی وجہ سے ان کا سر ان کی گود میں آ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میری دعا تمہیں پسند آئی ہے ، انہوں نے جواب دیا : کیا وجہ ہے مجھے آپ کی دعا کیوں اچھی نہ لگے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی قسم ! میں ہر نماز میں اپنی امت کے لئے یہ دعا کرتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف أحمد بن منصور مادی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15327
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2658)»