مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِيمَا بَقِيَ مِنْ فَضْلِهَا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل میں سے جو باقی رہ گیا ہے ان کا مجموعہ
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : إِنِّي أُفَكِّرُ فِي أَمْرِكِ فَأَعْجَبُ ! أَجِدُكِ مِنْ أَفْقَهِ النَّاسِ فَقُلْتُ : مَا يَمْنَعُهَا ؟ زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ . وَأَجِدُكِ عَالِمَةً بِأَيَّامِ الْعَرَبِ وَأَنْسَابِهَا وَأَشْعَارِهَا فَقُلْتُ : وَمَا يَمْنَعُهَا ; وَأَبُوهَا عَلَّامَةُ قُرَيْشٍ ؟ وَلَكِنْ أَعْجَبُ أَنِّي وَجَدْتُكِ عَالِمَةً بِالطِّبِّ ، فَمِنْ أَيْنَ ؟ فَأَخَذَتْ بِيَدِي ، فَقَالَتْ : يَا عُرَيَّةُ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَثُرَتْ أَسْقَامُهُ ، فَكَانَتْ أَطِبَّاءُ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ يَبْعَثُونَ لَهُ ، فَتَعَلَّمْتُ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَالَتْ : وَكُنْتُ أُعَالِجُهَا لَهُ فَمِنْ ثَمَّ . وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مُسْتَقِيمُ الْحَدِيثِ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ أَحْمَدَ قَالَ : عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّ عُرْوَةَ كَانَ يَقُولُ لِعَائِشَةَ . . . فَظَاهِرُهُ الِانْقِطَاعُ . وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ : عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، فَهُوَ مُتَّصِلٌ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤عروہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں آپ کے بارے میں غور کرتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں ، میں نے آپ کو پایا ہے کہ آپ کو لوگوں میں سب سے زیادہ دین کی سمجھ بوجھ ہے ، تو میں نے سوچا کہ اس میں کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے ، یہ اللہ کے رسول کی اہلیہ ہیں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہیں ، پھر میں نے آپ کو پایا کہ آپ عربوں کی تاریخ اور ان کے نسب کی عالمہ ہیں اور ان کی شاعری کی عالمہ ہیں ، تو میں نے سوچا کہ اس میں کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے ، ان کے والد قریش کے بڑے صاحب علم تھے ، لیکن مجھے اس بات پر حیرانگی ہوتی ہے کہ میں نے آپ کو پایا ہے کہ آپ طب کے بارے میں بھی جانتی ہیں ، یہ علم آپ نے کہاں سے حاصل کیا ہے ، تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : اے عریہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر بیمار ہو جاتے تھے تو عربوں اور عجمیوں کے طبیب آیا کرتے تھے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دوا بھجواتے تھے ، تو اس سے میں نے یہ چیز سیکھی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام أحمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ کہا: میں ان بیماریوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھ بھال کیا کرتی تھی اور کہاں سے ( علم طب کے بارے میں معلومات ) آنی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن معاویہ زبیری ہے ابوحاتم کہتے ہیں یہ مستقیم الحدیث ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، امام أحمد اور امام طبرانی کے معجم کبیر میں بقیہ رجال ثقہ ہیں ، البتہ امام أحمد نے یہ کہا: ہے کہ ہشام بن عروہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے کہ عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ کہا: ، تو بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ سند منقطع ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ کہا: ہے کہ ہشام بن عروہ کے حوالے سے ان کے والد سے یہ بات منقول ہے ، تو یہ سند متصل ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔