حدیث نمبر: 15281
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا ذَكَرَ خَدِيجَةَ أَثْنَى فَأَحْسَنَ الثَّنَاءَ ، قَالَتْ : فَغِرْتُ يَوْمًا ، فَقُلْتُ : مَا أَكْثَرَ مَا تَذْكُرُ حَمْرَاءَ الشِّدْقَيْنِ ! قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهَا . قَالَ : " أَبْدَلَنِي اللَّهُ خَيْرًا مِنْهَا ؟ ! قَدْ آمَنَتْ بِي إِذْ كَفَرَ بِيَ النَّاسُ ، وَصَدَّقَتْنِي إِذْ كَذَّبَنِي النَّاسُ ، وَوَاسَتْنِي بِمَالِهَا إِذْ حَرَمَنِي النَّاسُ ، وَرَزَقَنِي اللَّهُ أَوْلَادَهَا وَحَرَمَنِي أَوْلَادَ النَّاسِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے تھے تو ان کی اچھی طرح سے تعریف کرتے تھے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ایک دن مجھے غصہ آ گیا ، میں نے کہا: آپ اس سرخ اونٹوں والی خاتون کا کتنا تذکرہ کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے بدلے میں زیادہ بہتر بیویاں عطا کر دی ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا اللہ تعالیٰ نے اس سے زیادہ بہتر مجھے عطا کی ہیں ؟ وہ اس وقت مجھ پر ایمان لائی تھی جب لوگوں نے میرا انکار کیا تھا ، اس نے اس وقت میری تصدیق کی تھی جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا تھا ، اس نے اپنے مال کے ذریعے میرا اس وقت ساتھ دیا تھا جب لوگوں نے مجھے محروم رکھنا چاہا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے ذریعے اولاد عطا کی اور دوسرے لوگوں کے ذریعے اولاد عطا نہیں کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15281
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (117/6)»