مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ زَوْجَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - باب: نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ : وَأُمُّ بَنِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَنَاتِهِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ : خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ - وَكَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ : الطَّاهِرَةُ - بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ ، وَأُمُّهَا : فَاطِمَةُ بِنْتُ زَائِدَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، وَهُوَ الْأَصَمُّ بْنُ حُجْرِ بْنِ عَبْدِ مَعِيصِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ ، وَأُمُّهَا هَالَةُ بِنْتُ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مُنْقِذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَعِيصِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ ، وَأُمُّهَا : الْعَرِقَةُ ، وَاسْمُهَا قِلَابَةُ بِنْتُ سَعْدِ بْنِ سَهْلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هَصِيصِ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ . وَحِبَّانُ بْنُ عَبْدِ مَنَافٍ - أَخُو هَالَةَ لِأَبِيهَا وَأَمِّهَا - هُوَ الَّذِي رَمَى سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - يَوْمَ الْخَنْدَقِ ، فَقَالَ : خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْعَرِقَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَرَّقَ اللَّهُ وَجْهَكَ فِي النَّارِ " . فَأَصَابَ أَكْحَلْ سَعْدٍ - رَحِمَ اللَّهُ سَعْدًا - فَمَاتَ شَهِيدًا .
وَكَانَتْ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ عَتِيقِ بْنِ عَائِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَخْزُومٍ فَوَلَدَتْ لَهُ هِنْدَ بْنَ عَتِيقٍ ، ثُمَّ خَلَفَ عَلَيْهَا أَبُو هَالَةَ مَالِكُ بْنُ نَبَّاشِ بْنِ زُرَارَةَ بْنِ وَقْدَانَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ سَلَامَةَ بْنِ عَدِيٍّ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ تَمِيمٍ حَلِيفُ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ بْنِ قُصَيٍّ ، فَوَلَدَتْ لَهُ هِنْدًا وَهَالَةَ ، فَهِنْدُ بْنُ عَتِيقِ بْنِ عَايِدٍ ، وَهِنْدُ وَهَالَةُ ابْنَا أَبِي هَالَةَ مَالِكِ بْنِ نَبَّاشِ بْنِ زُرَارَةَ ، إِخْوَةُ وَلَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ مِنْ أُمِّهِمْ .
زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے علاوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹوں اور آپ کی تمام صاحبزادیوں کی والدہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا ہیں جو زمانہ جاہلیت میں طاہرہ کہلاتی تھیں ، ( ان کا نسب یہ ہے : خدیجہ بنت خویلد ) بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی ان کی والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ بن جندب ہے ، جندب نامی صاحب اصم بن حجر بن عبدمعیص بن عامر بن لؤی ہیں ۔ فاطمہ بنت زائدہ کی والدہ کا نام ہالہ بنت عبد مناف بن حارث بن منقذ بن عمرو بن معيص بن عامر بن لؤی ہے ، اور اس خاتون کی والدہ کا نام عرقہ ہے اس خاتون کا نام اصل میں کلابہ تھا ، وہ سعد بن سہل بن عمرو بن حصیص بن کعب بن لؤی کی صاحبزادی ہیں ، حبان بن عبد مناف ہالہ نامی اس خاتون کے سگے بھائی تھے یہ وہی صاحب ہیں جنہوں نے غزوہ خندق کے موقع پر سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو تیر مارا تھا اور یہ کہا: تھا اس کو سنبھالو میں ابن عرقہ ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : اللہ تعالیٰ تیرے چہرے کو جہنم میں عرق آلود کرے ، وہ تیر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے بازو کی رگ پر لگا تھا اور اسی وجہ سے وہ شہید ہوئے تھے ۔ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عتیق بن عائذ بن عبداللہ بن عمرو بن مخزوم سے شادی کی تھی ، انہوں نے ان صاحب کے بیٹے ہند بن عتیق کو جنم دیا تھا پھر اس کے بعد ان کے ساتھ ابوہالہ مالک بن نباش بن زرارہ بن وقدان بن حبیب بن سلامہ بن عدی نے شادی کی تھی جن کا تعلق بنو اسد بن عمرو بن تمیم سے تھا اور وہ بن عبدالدار بن قصی کے حلیف تھے ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان صاحب کے بیٹوں ہند اور ہالہ کو جنم دیا تھا ، تو ہند بن عتیق بن عائذ ، اور ہند اور ہالہ جو ابوہالہ مالک بن نباش بن زرارہ کے بیٹے ہیں ، یہ سب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کے ، ان کی والدہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بہن بھائی ہیں ۔