حدیث نمبر: 15197
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كُنْتُ أَرَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَبِّلُ فَاطِمَةَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَرَاكَ تَفْعَلُ شَيْئًا مَا كُنْتَ تَفْعَلُهُ مِنْ قَبْلُ ، قَالَ لِي : " يَا حُمَيْرَاءُ ، إِنَّهُ لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أُسْرِيَ بِي إِلَى السَّمَاءِ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ ، فَوَقَفْتُ عَلَى شَجَرَةٍ مِنْ شَجَرِ الْجَنَّةِ ، لَمْ أَرَ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً هِيَ أَحْسَنُ مِنْهَا حُسْنًا ، وَلَا أَبْيَضُ مِنْهَا وَرَقَةً ، وَلَا أَطْيَبُ مِنْهَا ثَمَرَةً ، فَتَنَاوَلْتُ ثَمَرَةً مِنْ ثَمَرَتِهَا فَأَكَلْتُهَا ، فَصَارَتْ نُطْفَةً فِي صُلْبِي ، فَلَمَّا هَبَطْتُ إِلَى الْأَرْضِ وَاقَعْتُ خَدِيجَةَ ، فَحَمَلَتْ بِفَاطِمَةَ ، فَإِذَا أَنَا اشْتَقْتُ إِلَى رَائِحَةِ الْجَنَّةِ شَمَمْتُ رِيحَ فَاطِمَةَ . يَا حُمَيْرَاءُ ، إِنَّ فَاطِمَةَ لَيْسَتْ كَنِسَاءِ الْآدَمِيِّينَ ، وَلَا تَعْتَلُّ كَمَا يَعْتَلُّونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو قَتَادَةَ الْحَرَّانِيُّ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَقَالَ : كَانَ يَتَحَرَّى الصِّدْقَ ، وَأَنْكَرَ عَلَى مَنْ نَسَبَهُ إِلَى الْكَذِبِ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَتْرُوكٌ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ أَيْضًا ، وَقَدْ ذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي تَرْجَمَتِهِ فِي الْمِيزَانِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتی تھی کہ آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بوسہ دیا کرتے تھے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ ایسا کام کرتے ہیں کہ آپ کے بارے میں میرا یہ خیال نہیں ہے کہ آپ پہلے ایسا کرتے ہوں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے حمیراء ! جس رات مجھے آسمان کی طرف معراج کروائی گئی مجھے جنت میں داخل کیا گیا ۔ میں وہاں ایک درخت کے پاس ٹھہرا ، میں نے اس سے زیادہ خوبصورت اور اس سے زیادہ سفید درخت جنت میں کوئی نہیں دیکھا ، جس کے پھل اس سے زیادہ پاکیزہ ہوں ۔ میں نے اس کا ایک پھل لیا اور اسے کھا لیا تو وہ میری پشت میں نطفہ بن گیا ، جب میں زمین پہ آیا تو میں نے خدیجہ کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کیا ، تو وہ اس کے حوالے سے حاملہ ہو گئی ، تو جب میں جنت کی خوشبو سونگھنے کا مشتاق ہوتا ہوں ، تو میں فاطمہ کی خوشبو کو سونگھ لیتا ہوں ۔ اے حمیرا ! فاطمہ عام عورتوں کی طرح نہیں ہے ، اور وہ اس طرح علت کا شکار نہیں ہوئی ، جس طرح لوگ علت کا شکار ہوتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوقتادہ حرانی ہے جسے امام أحمد نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں : یہ سچائی کے بارے میں کوشش کرتا رہتا تھا امام أحمد نے اس کا انکار کیا ہے کہ جس نے اس کو جھوٹ کی طرف منسوب کیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے بعض نے کہا: ہے : یہ متروک ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایسے راوی بھی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں یہ حدیث کتاب میزان الاعتدال میں اس راوی کے حوالے سے ذکر کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15197
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً