مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ بِنْتُ امْرِئِ الْقَيْسِ : كَلْبِيَّةٌ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ ، وَعَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَمُسْلِمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَسُلَيْمَانُ مَوْلَى الْحُسَيْنِ . وَقُتِلُ الْحُسَيْنُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِيهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . باب: حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَيْتِ عَائِشَةَ ، فَمَرَّ عَلَى بَيْتِ فَاطِمَةَ ، فَسَمِعَ حُسَيْنًا يَبْكِي ، فَقَالَ : " أَلَمْ تَعْلَمِي أَنَّ بُكَاءَهُ يُؤْذِينِي ؟ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ الطَّوِيلِ فِي الْإِخْبَارِ بِقَتْلِهِ النَّهْيَ عَنْ بُكَائِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ بَيْعَتِهِ فِي الْبَيْعَةِ . ¤یزید بن ابوزیاد بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے باہر آئے آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے پاس سے گزرے آپ نے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو روتے ہوئے سنا تو فرمایا : کیا تم یہ بات نہیں جانتی ہو کہ اس کا رونا مجھے تکلیف دیتا ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔ اس سے پہلے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ایک طویل حدیث گزر چکی ہے ، جس میں انہیں رلانے کی ممانعت کا ذکر ہے ، جس میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع کا ذکر ہے اور بیعت سے متعلق باب میں ، ان کی بیعت سے متعلق روایت گزر چکی ہے ۔