مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ بِنْتُ امْرِئِ الْقَيْسِ : كَلْبِيَّةٌ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ ، وَعَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَمُسْلِمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَسُلَيْمَانُ مَوْلَى الْحُسَيْنِ . وَقُتِلُ الْحُسَيْنُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِيهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . باب: حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
وَعَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ الْجَهْمِيِّ - مِنْ وَلَدِ أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ - أَنَّهُ كَانَ يُنْشِدُ فِي قَتْلِ الْحُسَيْنِ ، وَقَالَ هَذَا الشِّعْرَ لِزَيْنَبَ بِنْتِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ :
مَاذَا تَقُولُونَ إِنْ قَالَ النَّبِيُّ لَكُمْ مَاذَا فَعَلْتُمْ وَأَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ بِعِتْرَتِي وَبِأَنْصَارِي وَذُرِّيَتِي
مِنْهُمْ أُسَارَى وَقَتْلَى ضُرِّجُوا بِدَمِ مَا كَانَ هَذَا جَزَائِي إِذْ نَصَحْتُ لَكُمْ
أَنْ تَخْلُفُونِي بِسُوءٍ فِي ذَوِي رَحِمِي .
فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيُّ : نَقُولُ : ( رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ .
أحمد بن محمد بن حمید جہمی جو سیدنا ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں ، انہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں یہ اشعار کہے ، اور یہ بتایا : یہ اشعار سیدہ زینب بنت عقیل بن ابوطالب رضی اللہ عنہما کے ہیں : ” اس وقت تم لوگ کیا کہو گے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں سے پوچھ لیا : تم آخری امت ہو ، تو تم نے میری عترت ، میرے انصار اور میری ذریت کے ساتھ کیا کیا ؟ ان میں سے کچھ کو قیدی بنا لیا گیا اور کچھ قتل ہو کر خون میں لت پت ہو گئے ، میں نے تمہاری جو خیرخواہی کی تھی کیا اس کا یہی بدلہ ہے کہ تم میرے بعد میرے رشتہ داروں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرو ۔ “ تو ابواسود دؤیلی نے کہا: ہم یہ کہتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا ، اگر تو نے ہماری مغفرت نہ کی اور ہم پر رحم نہ کیا ، تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔