حدیث نمبر: 15183
وَعَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ الْجَهْمِيِّ - مِنْ وَلَدِ أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ - أَنَّهُ كَانَ يُنْشِدُ فِي قَتْلِ الْحُسَيْنِ ، وَقَالَ هَذَا الشِّعْرَ لِزَيْنَبَ بِنْتِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : ¤ مَاذَا تَقُولُونَ إِنْ قَالَ النَّبِيُّ لَكُمْ مَاذَا فَعَلْتُمْ وَأَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ بِعِتْرَتِي وَبِأَنْصَارِي وَذُرِّيَتِي ¤ مِنْهُمْ أُسَارَى وَقَتْلَى ضُرِّجُوا بِدَمِ مَا كَانَ هَذَا جَزَائِي إِذْ نَصَحْتُ لَكُمْ ¤ أَنْ تَخْلُفُونِي بِسُوءٍ فِي ذَوِي رَحِمِي . ¤ فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيُّ : نَقُولُ : ( رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ . ¤
محمد محی الدین

أحمد بن محمد بن حمید جہمی جو سیدنا ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں ، انہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں یہ اشعار کہے ، اور یہ بتایا : یہ اشعار سیدہ زینب بنت عقیل بن ابوطالب رضی اللہ عنہما کے ہیں : ” اس وقت تم لوگ کیا کہو گے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں سے پوچھ لیا : تم آخری امت ہو ، تو تم نے میری عترت ، میرے انصار اور میری ذریت کے ساتھ کیا کیا ؟ ان میں سے کچھ کو قیدی بنا لیا گیا اور کچھ قتل ہو کر خون میں لت پت ہو گئے ، میں نے تمہاری جو خیرخواہی کی تھی کیا اس کا یہی بدلہ ہے کہ تم میرے بعد میرے رشتہ داروں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرو ۔ “ تو ابواسود دؤیلی نے کہا: ہم یہ کہتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا ، اگر تو نے ہماری مغفرت نہ کی اور ہم پر رحم نہ کیا ، تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15183
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2875)»