مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ بِنْتُ امْرِئِ الْقَيْسِ : كَلْبِيَّةٌ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ ، وَعَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَمُسْلِمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَسُلَيْمَانُ مَوْلَى الْحُسَيْنِ . وَقُتِلُ الْحُسَيْنُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِيهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . باب: حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : مَا سَمِعْتُ نَوْحَ الْجِنِّ مُنْذُ قُبِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا اللَّيْلَةَ ، وَمَا أَرَى ابْنِي إِلَّا قُبِضَ - تَعْنِي الْحُسَيْنَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَتْ لِجَارِيَتِهَا : اخْرُجِي اسْأَلِي ، فَأُخْبِرَتْ أَنَّهُ قَدْ قُتِلَ ، وَإِذَا جِنِّيَّةٌ تَنُوحُ : ¤ أَلَا يَا عَيْنُ فَاحْتَفِلِي بِجَهْدِ وَمَنْ يَبْكِي عَلَى الشُّهَدَاءِ بَعْدِي عَلَى رَهْطٍ تَقُودُهُمُ الْمَنَايَا ¤ إِلَى مُتَجَبِّرٍ فِي مُلْكِ عَبْدِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ ثَابِتِ بْنِ هُرْمُزَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے کبھی جنات کا نوحہ نہیں سنا ، ایک رات ایسا ہوا تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ میرا بیٹا انتقال کر گیا ہے ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی مراد امام حسین رضی اللہ عنہ تھے ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی کنیز سے کہا: تم جاؤ اور اس بارے میں دریافت کرو ، تو انہیں یہ بات بتائی گئی کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے ، وہاں ایک جن نے نوحہ کرتے ہوئے یہ اشعار پڑھے : ” خبردار ! اے آنکھ تم خوب روؤ ! اور میرے بعد شہداء پر کون روئے گا ؟ ان پر جنہیں ایک غلام کی حکومت میں ، تقدیر موت کے منہ میں لے گئی “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت بن ہرمز ہے اور وہ ضعیف ہے ۔