مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
حدیث نمبر: 15166
وَعَنْ سُفْيَانَ قَالَ : حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ أَبِي قَالَتْ : شَهِدَ رَجُلَانِ مِنَ الْجُعْفِيِّينَ قَتْلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَطَالَ ذَكَرُهُ حَتَّى كَانَ يَلُفُّهُ . وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَسْتَقْبِلُ الرَّاوِيَةَ بِفِيهِ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى آخِرِهَا . قَالَ سُفْيَانُ : رَأَيْتُ وَلَدَ أَحَدِهِمَا كَانَ بِهِ خَبَلٌ ، وَكَأَنَّهُ مَجْنُونٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى جَدِّهِ سُفْيَانَ ثِقَاتٌمحمد محی الدین
سفیان بیان کرتے ہیں : میری دادی یعنی میرے والد کی والدہ نے یہ بات بیان کی ہے : جعفیوں میں سے دو افراد امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے قتل کے وقت موجود تھے ، ان دونوں کا انجام برا ہوا ۔ سفیان کہتے ہیں : میں نے ان دونوں میں سے ایک کی اولاد کو دیکھا کہ اسے پاگل پن لاحق ہو گیا تھا اور وہ پاگل ہی رہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور سفیان کی دادی تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔