مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
حدیث نمبر: 15150
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا أُتِيَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ ، جَعَلَ يَنْكُتُ بِالْقَضِيبِ ثَنَايَاهُ يَقُولُ : لَقَدْ كَانَ - أَحْسَبُهُ قَالَ - جَمِيلًا ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَأُسَوِّءَنَّكَ ، إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَلْثِمُ حَيْثُ يَقَعُ قَضِيبُكَ . قَالَ : فَانْقَبَضَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر عبیداللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا ، تو اس نے ان کے دانتوں پر چھڑی لگانا شروع کی اور یہ کہنا شروع کیا یہ بہت خوبصورت ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں تمہارے عمل کو غلط قرار دوں گا کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جگہ کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے ، جہاں تم چھڑی لگا رہے ہو ۔ راوی کہتے ہیں : تو اس نے ہاتھ کھینچ لیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔