مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
وَعَنِ اللَّيْثِ - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - قَالَ : أَبَى الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ أَنْ يَسْتَأْسِرَ ، فَقَاتَلُوهُ فَقَتَلُوهُ ، وَقَتَلُوا بَنِيهِ وَأَصْحَابَهُ الَّذِينَ قَاتَلُوا مَعَهُ بِمَكَانٍ يُقَالُ لَهُ : الطَّفُّ ، وَانْطَلَقَ بِعَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، وَفَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ ، وَسُكَيْنَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ ، وَعَلِيٌّ يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ قَدْ بَلَغَ ، فَبَعَثَ بِهِمْ إِلَى يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، فَأَمَرَ بِسُكَيْنَةَ ، فَجَعَلَهَا خَلْفَ سَرِيرِهِ لِئَلَّا تَرَى رَأْسَ أَبِيهَا وَذَوِي قَرَابَتِهَا ، وَعَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ فِي غُلٍّ ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ فَضَرَبَ عَلَى ثَنْيَتَيِ الْحُسَيْنِ ، فَقَالَ : ¤ نُفَلِّقُ هَامًا مِنْ رِجَالٍ أَحِبَّةٍ إِلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا . ¤ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ : ( مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ ) . فَثَقُلَ عَلَى يَزِيدَ أَنْ يَتَمَثَّلَ بِبَيْتِ شِعْرٍ ، وَتَلَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . فَقَالَ يَزِيدُ : بَلْ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ ، وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ . فَقَالَ عَلِيٌّ : أَمَا وَاللَّهِ لَوْ رَآنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَغْلُولِينَ لَأَحَبَّ أَنْ يُخَلِّيَنَا مِنَ الْغُلِّ . فَقَالَ : صَدَقْتَ ، فَخَلُّوهُمْ مِنَ الْغُلِّ . فَقَالَ : وَلَوْ وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بُعْدٍ لَأَحَبَّ أَنْ يُقَرِّبَنَا . قَالَ : صَدَقْتَ ، فَقَرِّبُوهُمْ . فَجَعَلَتْ فَاطِمَةُ وَسُكَيْنَةُ يَتَطَاوَلَانِ لِتَرَيَا رَأْسَ أَبِيهِمَا ، وَجَعَلَ يَزِيدُ يَتَطَاوَلُ فِي مَجْلِسِهِ لِيَسْتُرَ رَأْسَ الْحُسَيْنِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ فَجُهِّزُوا ، وَأَصْلَحَ إِلَيْهِمْ ، وَأُخْرِجُوا إِلَى الْمَدِينَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤لیث بن سعد بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے قیدی بننے سے انکار کر دیا تھا ، لوگوں نے ان کے ساتھ جنگ کر کے انہیں شہید کر دیا ، ان کے بیٹوں اور ان کے ساتھیوں کو بھی شہید کر دیا ، جنہوں نے ان کے ساتھ لڑائی میں حصہ لیا تھا ۔ یہ واقعہ اس جگہ پر پیش آیا جس کا نام طف ہے وہ لوگ علی بن حسین ( یعنی زین العابدین ) کو ساتھ لے گئے ، فاطمہ بنت حسین سکینہ بنت حسین کو لے کے عبیداللہ بن زیاد کے پاس چلے گئے ، علی بن حسین ( یعنی امام زین العابدین ) ان دنوں قریب البلوغ لڑکے تھے ، پھر عبیداللہ بن زیاد نے ان لوگوں کو یزید بن معاویہ کے پاس بھیجوا دیا ، اس نے سیدہ سکینہ بنت حسین رضی اللہ عنہما کے بارے میں حکم دیا ، انہیں پیچھے کر دیا جائے تاکہ وہ اپنے والد کا سر نہ دیکھ سکیں اور ان کے رشتہ داروں کے بارے میں بھی یہی حکم دیا ، سیدنا علی بن حسین رضی اللہ عنہ اس وقت بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے ، امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر رکھا گیا تو یزید نے ان کے دانتوں پر چھڑی ماری اور یہ شعر پڑھا : ” ہم کچھ محبوب افراد کی خاطر سر کٹوا لیتے ہیں ، حالانکہ وہ لوگ زیادہ نافرمان اور زیادہ ظالم ہوتے ہیں ۔ “ تو امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی : ” زمین میں ، یا تمہارے وجودوں میں جو مصیبت لاحق ہوتی ہے ، تو وہ ایک تحریر میں ہے ، اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں ، اور یہ ( سب پہلے سے تحریر کر دینا ) اللہ تعالیٰ کے لئے آسان ہے ۔ “ یہ بات یزید کو بہت گراں گزری کہ اس نے صورت حال پر تبصرہ کرنے کے لئے شعر پڑھا تھا اور امام زین العابدین نے اللہ کی کتاب کی آیت پڑھ دی ہے ، تو یزید نے کہا: جی نہیں بلکہ یہ اس وجہ سے ہے ، جو تمہارے ہاتھوں نے کمائی کی ہے ، اور اس نے بہت سی چیزوں سے درگزر کیا ہے ( یعنی اس نے بھی آیت پڑھ دی ) تو امام زین العابدین نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر اللہ کے رسول ہمیں ایسی حالت میں دیکھتے کہ ہم بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہیں ، تو آپ اس بات کو پسند کرتے کہ آپ ہماری بیڑیاں کھول دیں ، یزید نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے تم لوگ ان کی بیڑیاں کھول دو ، امام زین العابدین نے کہا: اگر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس طرح دور کھڑے کیے جاتے تو آپ کی یہ خواہش ہونی تھی کہ آپ ہمیں قریب کھڑا کرتے ، یزید نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے تم انہیں قریب کر دو ، پھر سیدہ فاطمہ بنت حسین رضی اللہ عنہا اور سیدہ سکینہ بنت حسین رضی اللہ عنہا اونچی ہو کر اپنے والد کا سر دیکھنے کی کوشش کرنے لگیں تو یزید اپنی جگہ سے اونچا ہو گیا تاکہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے سر کے لئے رکاوٹ بن جائے ( اور وہ خواتین اسے نہ دیکھ پائیں ) پھر اس نے ان لوگوں کے بارے میں حکم دیا انہیں ساز و سامان فراہم کیا گیا اس نے ان لوگوں کی تیاری کروائی اور انہیں مدینہ منورہ بھجوا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔