حدیث نمبر: 15146
وَعَنْ أَسْلَمَ الْمِنْقَرِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى الْحَجَّاجِ ، فَدَخَلَ سِنَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ - قَاتِلُ الْحُسَيْنِ - فَإِذَا شَيْخٌ آدَمُ فِيهِ حِنَّاءُ ، طَوِيلُ الْأَنْفِ ، فِي وَجْهِهِ بَرَشٌ ، فَأُوقِفَ بِحِيَالِ الْحَجَّاجِ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ الْحَجَّاجُ فَقَالَ : أَنْتَ قَتَلْتَ الْحُسَيْنَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : وَكَيْفَ صَنَعْتَ بِهِ ؟ قَالَ : دَعَمْتُهُ بِالرُّمْحِ ، وَهَبَرْتُهُ بِالسَّيْفِ هَبْرًا . فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ : أَمَا إِنَّكُمَا لَنْ تَجْتَمِعَا فِي دَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

اسلم منقری بیان کرتے ہیں : میں حجاج کے پاس آیا اسی دوران امام حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل سنان بن ابوانس بھی وہاں آیا وہ گندمی رنگت کا بوڑھا شخص تھا ، جو کچھ خمیدہ کمر تھا ، اس کی ناک لمبی تھی اور اس کے چہرے پر داغ تھے ، وہ حجاج کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا حجاج نے اس کی طرف دیکھا اور دریافت کیا : کیا تم نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ، حجاج نے دریافت کیا : تم نے ان کے ساتھ کیا کیا ؟ اس نے کہا: میں نے ان پر نیزے کا وار کیا اور تلوار کے ذریعے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ، تو حجاج نے کہا: تم دونوں ( یعنی تم اور امام حسین رضی اللہ عنہ ) ایک جگہ پر ( یعنی جنت میں ) کبھی اکٹھے نہیں ہو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15146
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2828)»