مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ : وُلِدَ الْحُسَيْنُ لِخَمْسِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ شَعْبَانَ ، سَنَةَ أَرْبَعٍ مِنَ الْهِجْرَةِ ، وَقُتِلَ يَوْمَ الْجُمْعَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فِي الْمُحَرَّمِ سَنَةَ إِحْدَى وَسِتِّينَ ، قَتَلَهُ سِنَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، وَأَجْهَزَ عَلَيْهِ خَوْلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَصْبَحِيُّ مِنْ حِمْيَرَ ، وَحَزَّ رَأْسَهُ وَأَتَى بِهِ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ ، فَقَالَ سِنَانٌ : ¤ أَوْقِرْ رِكَابِي فِضَّةً وَذَهَبَا أَنَا قَتَلْتُ الْمَلِكَ الْمُحَجَّبَا قَتَلْتُ خَيْرَ النَّاسِ أُمًّا وَأَبَا ¤ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پانچ شعبان سن چار ہجری میں پیدا ہوئے تھے اور وہ جمعہ کے دن عاشورہ کے دن محرم کے مہینے میں اکسٹھ ہجری میں شہید ہوئے ، سنان بن ابوانس نے انہیں قتل کیا تھا اور خولی بن یزید اصبحی جس کا تعلق حمیر سے تھا ، اس نے ان کا سر اتارا تھا اور وہ اسے لے کے عبیداللہ بن زیاد کے پاس آیا تھا ، تو سنان نے یہ کہا: ” میری سواری کو سونے اور چاندی سے لاد دو ! کیونکہ میں نے ایک صاحب حیثیت بادشاہ کو قتل کیا ہے ، میں نے ان کو قتل کیا ہے جو ماں اور باپ کے حوالے سے سب سے بہتر تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔