حدیث نمبر: 1514
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : قَالَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ - وَكَانَ شَابًّا - : وَفَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدُونِي أَفْضَلَهُمْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ، وَقَدْ فَضَلْتُهُمْ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ أَمَّرْتُكَ عَلَى أَصْحَابِكَ وَأَنْتَ أَصْغَرُهُمْ ، وَلَا تَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا وَأَنْتَ طَاهِرٌ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ فِي جُمْلَةِ حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِيمَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَالنَّسَائِيُّ ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ : ثِقَةٌ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے بتایا : جب وہ نوجوان تھے ، تو وہ وفد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہ بیان کرتے ہیں : میرے ساتھیوں نے مجھے پایا ، کہ قرآن یاد رکھنے کے حوالے سے ، میں ان سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہوں ، اور مجھے اُن پر سورہ بقرہ ( حفظ ہونے ) کے حوالے سے بھی فضیلت حاصل تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں ، تمہارے ساتھیوں کا امیر مقرر کرتا ہوں ، اگرچہ تم ان سے عمر میں سب سے چھوٹے ہو ، تم قرآن کو صرف اُس وقت چھونا ، جب تم پاک ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو ان صورتوں کے بارے میں ہے ، جن میں زکوۃ واجب ہوتی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رافع ہے ، جسے یحییٰ بن معین اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ ثقہ لیکن مقارب الحدیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1514
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف