حدیث نمبر: 15094
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَخَرَتِ الْجَنَّةُ عَلَى النَّارِ ; فَقَالَتْ : أَنَا خَيْرٌ مِنْكِ ، فَقَالَتِ النَّارُ : بَلْ أَنَا خَيْرٌ مِنْكِ ، فَقَالَتْ لَهَا الْجَنَّةُ اسْتِفْهَامًا : وَمِمَّهْ ؟ قَالَتْ : لِأَنَّ فِيَّ الْجَبَابِرَةُ ، وَنَمْرُوذُ ، وَفِرْعَوْنُ ، فَأُسْكِتَتْ . فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهَا : لَا تَخْضَعِينَ ، لَأُزَيِّنَنَّ رُكْنَيْكِ بِالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ، فَمَاسَتْ كَمَا تَمِيسُ الْعَرُوسُ فِي خِدْرِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ صُهَيْبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جہنم کے سامنے جنت نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا: میں تم سے بہتر ہوں ، تو جہنم نے کہا: بلکہ میں تم سے بہتر ہوں ، جنت نے جہنم سے استفہام کے طور پر دریافت کیا : کس وجہ سے ؟ تو جہنم نے جواب دیا : کیونکہ میرے اندر حکمران نمرود فرعون ہیں ، تو جنت خاموش ہو گئی ، تو اللہ تعالیٰ نے جنت کی طرف یہ وحی کی کہ تم خود کو کمتر محسوس نہ کرو ! میں تمہارے دورکنوں کو حسن اور حسین کے ذریعے آراستہ کروں گا ، تو وہ یوں جھومی ، جس طرح دلہن اپنے خیمے میں جھومتی ( خوش ہوتی یا شرم سے دہری ہوتی ) ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن صہیب ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15094
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً