مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا اشْتَرَكَ فِيهِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - مِنَ الْفَضْلِ . باب: اس چیز کا بیان ، جس میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ فضیلت کے حوالے سے شریک ہیں
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : كُنَّا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ ضَلَّ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ قَالَ : وَذَاكَ رَأْدُ النَّهَارِ - يَقُولُ : ارْتِفَاعُ النَّهَارِ - فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُومُوا فَاطْلُبُوا ابْنِي " . وَأَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ تُجَاهَ وَجْهِهِ ، وَأَخَذْتُ نَحْوَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى أَتَى سَفْحَ جَبَلٍ ، وَإِذَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - مُلْتَزِقٌ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ ، وَإِذَا شُجَاعٌ قَائِمٌ عَلَى ذَنَبِهِ ، يَخْرُجُ مِنْ فِيهِ شَرَرُ النَّارِ ، فَأَسْرَعَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَالْتَفَتَ مُخَاطِبًا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ انْسَابَ فَدَخَلَ بَعْضَ الْأَحْجَارِ ، ثُمَّ أَتَاهُمَا فَأَفْرَقَ بَيْنَهُمَا ، ثُمَّ مَسَحَ وُجُوهَهُمَا ، وَقَالَ : " بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتُمَا ، مَا أَكْرَمَكُمَا عَلَى اللَّهِ ! " . ثُمَّ حَمَلَ أَحَدَهُمَا عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْمَنِ ، وَالْآخِرَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ ، فَقُلْتُ : طُوبَاكُمَا ! نِعْمَ الْمَطِيَّةُ مَطِيَّتُكُمَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَنِعْمَ الرَّاكِبَانِ هُمَا ، وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ رُشْدٍ الْهِلَالِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد موجود تھے ، اسی دوران سیدہ ام ایمن آئیں اور بولیں : یا رسول اللہ ! حسن اور حسین گم ہو گئے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : یہ دن چڑھے کی بات ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اٹھو اور میرے دونوں بیٹوں کو تلاش کرو اور ہر شخص اپنے سامنے کی سمت میں چل پڑے ، راوی کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم والی سمت میں چل پڑا ، تھوڑی دیر گزرنے کے بعد ایک پہاڑ کے دامن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو وہاں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ موجود تھے ، وہ ایک دوسرے کے ساتھ لپٹے ہوئے تھے اور وہاں ایک سانپ اپنی دم پر کھڑا ہوا تھا اور اس کے منہ سے آگ کے شراروں کی طرح کی کوئی چیز نکل رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے اس کی طرف گئے اس نے مڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر کچھ کہا: اور پھر مڑ گیا ، اور اپنی بل میں داخل ہو گیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں صاحبزادوں کے پاس آئے اور ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا ، آپ نے ان کے چہروں پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا : میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ، تم دونوں اللہ تعالیٰ کے نزدیک کتنے عزت والے ہو ، پھر آپ نے ان میں سے ایک کو دائیں کندھے پر اور دوسرے کو بائیں کندھے پر بٹھا لیا ، تو میں نے کہا: تم دونوں کو مبارک باد ہو ! تم دونوں کی سواری کتنی اچھی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ دونوں سوار بھی کتنے اچھے ہیں اور ان دونوں کا باپ ان دونوں سے بہتر ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن رشد ہلالی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔