حدیث نمبر: 15044
وَعَنْ رَجَاءِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا بِالْمَدِينَةِ فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَلْقَةٍ فِيهَا أَبُو سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، فَمَرَّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَسَلَّمَ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْمُ ، وَسَكَتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، ثُمَّ اتَّبَعَهُ ، فَقَالَ : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَذَا أَحَبُّ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى أَهْلِ السَّمَاءِ ، وَاللَّهِ مَا كَلَّمْتُهُ مُنْذُ لَيَالِ صِفِّينَ . فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : أَلَا تَنْطَلِقُ إِلَيْهِ فَتَعْتَذِرَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَامَ فَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ ، فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لَهُ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَدَخَلَ ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : حَدِّثْنَا بِالَّذِي حَدَّثْتَنَا بِهِ حَيْثُ مَرَّ الْحَسَنُ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، أَنَا أُحَدِّثُكُمْ : إِنَّهُ أَحَبُّ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى أَهْلِ السَّمَاءِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ : إِذْ عَلِمْتَ أَنِّي أَحَبُّ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى أَهْلِ السَّمَاءِ فَلِمَ قَاتَلْتَنَا ، أَوْ كَثَّرْتَ يَوْمَ صِفِّينَ ؟ ! قَالَ : أَمَا إِنِّي وَاللَّهِ مَا كَثَّرْتُ سَوَادًا ، وَلَا ضَرَبْتُ مَعَهُمْ بِسَيْفٍ ، وَلَكِنِّي حَضَرْتُ مَعَ أَبِي أَوْ كَلِمَةٍ نَحْوِهَا . قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ ؟ قَالَ : بَلَى . وَلَكِنِّي كُنْتُ أَسْرُدُ الصَّوْمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَكَانِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَصُومُ النَّهَارَ ، وَيَقُومُ اللَّيْلَ . قَالَ : " صُمْ وَأَفْطِرْ ، وَصَلِّ وَنَمْ ; فَإِنِّي أَنَا أُصَلِّي وَأَنَامُ ، وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ " . قَالَ لِي : " يَا عَبْدَ اللَّهِ ، أَطِعْ أَبَاكَ " . فَخَرَجَ يَوْمَ صِفِّينَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي لَهُ طَرِيقٌ فِي فَضْلِ الْحُسَيْنِ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین

رجاء بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا جس میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ موجود تھے ، اسی دوران وہاں سے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ گزرے ، انہوں نے سلام کیا ، لوگوں نے ان کو جواب دیا ، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ خاموش رہے ، جب وہ چلے گئے تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: و علیک السلام و رحمتہ اللہ ، پھر انہوں نے فرمایا : یہ صاحب اہل آسمان کے نزدیک ، اہل زمین میں سے سب سے زیادہ محبوب ہیں ، جنگ صفین کے بعد اللہ کی قسم ! میں نے کبھی ان کے ساتھ بات نہیں کی ، تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ ان کے پاس جا کر ان کے سامنے معذرت کیوں نہیں پیش کرتے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے ، راوی کہتے ہیں : پھر وہ اٹھے ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوئے ، انہوں نے اجازت مانگی ، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دے دی ، پھر انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے لئے اجازت مانگی ، وہ بھی اندر آ گئے ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا: ، آپ وہ بات بیان کیجئے جو آپ نے ہمیں اس وقت بیان کی تھی جب حسن گزرے تھے ، تو انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے ، میں آپ لوگوں کو بتاتا ہوں کہ یہ اہل آسمان کے نزدیک ، اہل زمین میں سے سب سے زیادہ محبوب ہیں ، تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : جب آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں اہل آسمان کے نزدیک ، اہل زمین میں سب سے زیادہ محبوب ہوں تو پھر آپ نے جنگ صفین کے موقع پر ہمارے ساتھ لڑائی کیوں کی ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اس میں شامل ہو کر ( ہمارے مخالفین کی تعداد کو ) زیادہ کیوں کیا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! نہ تو میں نے لوگوں کی تعداد کو زیادہ کیا اور نہ ہی میں نے ان کے ساتھ تلوار سے ضرب لگائی ، میں صرف اپنے والد کے ساتھ موجود رہا تھا ، تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا آپ یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی معصیت کے بارے میں مخلوق کی اطاعت نہیں کی جا سکتی ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، میں مسلسل نفلی روزے رکھا کرتا تھا ، میرے والد نے میری شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! عبداللہ بن عمرو دن کے وقت روزہ رکھتا ہے اور رات کو نفل پڑھتا رہتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نفلی روزہ رکھ بھی لیا کرو اور چھوڑ بھی دیا کرو ( رات کے وقت ) سو بھی جایا کرو اور نفل بھی پڑھ لیا کرو کیونکہ میں نفل بھی پڑھتا ہوں اور سو بھی جاتا ہوں ، نفلی روزہ رکھتا بھی ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عبداللہ ! تم اپنے باپ کی اطاعت کرو ۔ تو میرے والد جنگ صفین کے موقع پر نکلے تھے ، تو میں بھی ان کے ساتھ نکل آیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف ہاشم بن برید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس روایت کا ایک طریق سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل سے متعلق باب میں بھی آئے گا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15044
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2632)»