مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ الْبَهِيِّ قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ : أَخْبِرْنِي بِأَقْرَبِ النَّاسِ شَبَهًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ : الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ كَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ شَبَهًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحَبَّهُمْ إِلَيْهِ ، كَانَ يَجِيءُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاجِدٌ فَيَقَعُ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَلَا يَقُومُ حَتَّى يَتَنَحَّى ، وَيَجِيءُ فَيَدْخُلُ تَحْتَ بَطْنِهِ ، فَيُفَرِّجُ لَهُ رِجْلَيْهِ حَتَّى يَخْرُجَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤بہی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ مجھے اس شخص کے بارے میں بتائیے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہو ، تو انہوں نے جواب دیا : سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھے ، وہ آتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں ہوتے تھے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر چڑھ جاتے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک کھڑے نہیں ہوتے تھے جب تک وہ ایک طرف نہیں ہٹ جاتے تھے ، ایک مرتبہ وہ آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کے نیچے ( یعنی دونوں ٹانگوں کے درمیان ) داخل ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے اپنی دونوں ٹانگیں کشادہ کر دیں تو وہ دوسری طرف سے نکل آئے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عابس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔