مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ مُسَرَّحٍ قَالَتْ : كُنْتُ فِيمَنْ حَضَرَ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - حِينَ ضَرَبَهَا الْمَخَاضُ فِي نِسْوَةٍ ، فَأَتَانَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " كَيْفَ هِيَ ؟ " . قُلْتُ : إِنَّهَا لَمَجْهُودَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِذَا هِيَ وَضَعَتْ فَلَا تَسْبِقُنِّي فِيهِ بِشَيْءٌ " . قَالَ : فَوَضَعَتْ ، فَسَّرُوهُ وَلَفُّوهُ فِي خِرْقَةٍ صَفْرَاءَ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا فَعَلْتِ ؟ " . فَقُلْتُ : قَدْ وَضَعَتْ غُلَامًا ، وَسَرَرْتُهُ وَلَفَفْتُهُ فِي خِرْقَةٍ . فَقَالَ : " عَصَيْتِنِي ؟ " . قُلْتُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ مَعْصِيَتِهِ ، وَمِنْ غَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! قَالَ : " فَائْتِنِي بِهِ " . فَأَتَيْتُهُ بِهِ ، فَأَلْقَى عَنْهُ الْخِرْقَةَ الصَّفْرَاءَ ، وَلَفَّهُ فِي خِرْقَةٍ بَيْضَاءَ ، وَتَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي فِيهِ ، وَأَلْبَأْهُ بِرِيقِهِ ، فَجَاءَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ : " مَا سَمَّيْتَهُ يَا عَلِيُّ ؟ " . قَالَ : سَمَّيْتُهُ جَعْفَرًا . قَالَ : " لَا . وَلَكِنْ حَسَنٌ وَبَعْدَهُ حُسَيْنٌ ، وَأَنْتَ أَبُو حَسَنٍ " . ¤سیدہ سودہ بنت مسرح رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں ان خواتین میں شامل تھی جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں بچے کی پیدائش کے وقت ان کے پاس موجود تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : اس کا کیا حال ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ا وہ تکلیف کے عالم میں ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب وہ بچے کو جنم دیدے تو تم نے مجھ سے پہلے اس بچے کے بارے میں کچھ نہیں کرنا راوی بیان کرتے ہیں : جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بچے کو جنم دے دیا تو ان لوگوں نے اس کی نال کاٹ دی اور اسے ایک زرد کپڑے میں لپیٹ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : کیا بنا ، تو میں نے عرض کی : انہوں نے بچے کو جنم دیا ہے ، میں نے اس کی نال کاٹ دی ہے اور اسے ایک کپڑے میں لپیٹ دیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے میری نافرمانی کی ہے ؟ میں نے عرض کی : میں اس نافرمانی سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں اور اس کے رسول کے غضب سے بھی پناہ مانگتی ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس بچے کو میرے پاس لے کے آؤ ، میں انہیں آپ کے پاس لے کے آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زرد رنگ کا کپڑا اس سے ہٹا دیا اور ایک سفید کپڑے میں اسے لپیٹ دیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کے منہ میں لعاب دہن ڈالا اور اپنے لعاب کے ذریعے اسے گھٹی دی ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے علی ! تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے ؟ انہوں نے بتایا : میں نے اس کا نام جعفر رکھا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ حسن ہے ، اور اس کے بعد حسین ہو گا ، اور تم ابوحسن ہو ۔ “