حدیث نمبر: 15023
وَعَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَنَا وَعَلِيٌّ ، وَفَاطِمَةُ ، وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ مُجْتَمِعُونَ ، وَمَنْ أَحَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَأْكُلُ وَنَشْرَبُ حَتَّى يُفَرَّقَ بَيْنَ الْعِبَادِ " . ¤ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَجُلًا مِنَ النَّاسِ ، فَسَأَلَ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ بِهِ ، فَقَالَ : كَيْفَ بِالْعَرْضِ وَالْحِسَابِ ؟ فَقُلْتُ لَهُ : كَيْفَ كَانَ لِصَاحِبِ يَاسِينَ بِذَلِكَ حِينَ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ سَاعَتِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں ، علی ، فاطمہ ، حسن اور حسین اکٹھے ہوں گے اور جو شخص ہم سے محبت رکھے گا ، ہم قیامت کے دن ہم کھائیں گے اور پیئں گے ، اس وقت تک جب تک بندوں کے درمیان فرق ( یعنی حساب ) نہیں ہو جاتا ۔ “ لوگوں میں سے ایک شخص کو اس بات کی اطلاع ملی انہوں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں اس کو اس بارے میں بتایا ، اس شخص نے کہا: پھر پیش کیا جانا اور حساب لیا جانا کہاں جائے گا ؟ تو میں نے ان سے کہا: اس کے حوالے سے یٰسین کے ساتھی کا کیا معاملہ ہو گا کہ جب اسے اسی وقت جنت میں داخل کر دیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15023
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2623)»