حدیث نمبر: 15019
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِلنَّاسِ حِينَ تَزَوَّجَ بِنْتَ عَلِيٍّ : أَلَا تُهَنِّئُونِي ! سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَنْقَطِعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ إِلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لوگوں سے یہ کہتے ہوئے سنا : جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے ساتھ شادی کی تھی کہ تم لوگ مجھے مبارک باد نہیں دو گے ؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن ہر سبب اور نسب منقطع ہو جائے گا البتہ میرے سبب اور میرے نسب کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف حسن بن سہل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15019
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2635)»