مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فِي فَضْلِ أَهْلِ الْبَيْتِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - . باب: اہل بیت کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، إِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ لَكُمْ ثَلَاثًا : أَنْ يُثَبِّتَ قَائِمَكُمْ ، وَيُعَلِّمَ جَاهِلَكُمْ ، وَيَهْدِيَ ضَالَّكُمْ ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ يَجْعَلَكُمْ نُجَدَاءَ نَجْدَاءَ رُحَمَاءَ ، فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا صَفَنَ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ ، وَصَلَّى وَصَامَ ، ثُمَّ مَاتَ وَهُوَ مُبْغِضٌ لِآلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ النَّارَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ زَكَرِيَّا الْغَلَّابِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَذَكَرَهَ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَقَالَ : يُعْتَبَرُ حَدِيثُهُ إِذَا رَوَى عَنِ الثِّقَاتِ ، فَإِنَّ فِي رِوَايَتِهِ عَنِ الْمَجَاهِيلِ بَعْضَ الْمَنَاكِيرِ . قُلْتُ : رَوَى هَذَا عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي هَذَا الْبَابِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اولاد عبدالمطلب ! میں نے اللہ تعالیٰ سے آپ لوگوں کے لئے تین چیزیں مانگی ہیں ۔ یہ کہ آپ کے کھڑے ہوئے شخص کو وہ ثابت قدم رکھے اور آپ کے ناواقف شخص کو علم عطا کرے اور آپ کے گمراہ شخص کو ہدایت نصیب کرے اور میں نے اس سے یہ بھی دعا مانگی ہے کہ وہ آپ لوگوں کو بہادر اور رحم کرنے والا بنائے ، اگر کوئی شخص رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان کھڑا ہو کے نماز ادا کرے اور وہ روزہ رکھتا ہو اور پھر وہ ایسی حالت میں مرے کہ وہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اہل بیت سے بغض رکھتا ہو تو وہ شخص جہنم میں جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد محمد بن زکریا غلابی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اس کا ذکر کتاب الثقات میں کیا ہے وہ کہتے ہیں اس کی نقل کردہ حدیث کا اعتبار کیا جائے گا جبکہ اس نے ثقہ راویوں سے روایت نقل کی ہو کیونکہ مجہول راویوں سے اس کی نقل کردہ روایات میں کچھ منکر ہونا پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس نے یہ روایت سفیان ثوری کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے اس باب میں ایک طویل حدیث گزر چکی ہے جو سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ۔