مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فِي فَضْلِ أَهْلِ الْبَيْتِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - . باب: اہل بیت کی فضیلت کا بیان
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَاهُ الْعَبَّاسُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي انْتَهَيْتُ إِلَى قَوْمٍ يَتَحَدَّثُونَ ، فَلَمَّا رَأَوْنِي سَكَتُوا ; وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِأَنَّهُمْ يُبْغِضُونَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوَقَدْ فَعَلُوهَا ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّكُمْ ، أَيَرْجُونَ أَنْ يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِي ، وَلَا يَرْجُوهَا بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ! " . ¤ ، قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ أَكْلُ الْقِثَّاءِ بِالرُّطَبِ ، وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ : " أَطْيَبُ اللَّحْمِ لَحْمُ الظَّهْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ .میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا سیدنا عباس بھی آپ کے پاس آئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کچھ لوگوں کے پاس آیا وہ آپس میں بات چیت کر رہے تھے جب انہوں نے مجھے دیکھا ، تو وہ چپ ہو گئے ۔ انہوں نے یہ صرف اس وجہ سے کیا ہے ، کیونکہ وہ لوگ ہم سے بغض رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا ان لوگوں نے ایسا کیا ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، ان میں سے کوئی ایک شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ آپ لوگوں سے محبت نہیں رکھتا ، کیا وہ لوگ یہ امید رکھتے ہیں کہ میری شفاعت کی وجہ سے وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے ، اور کیا بنو عبدالمطلب کو اس کی امید نہیں ہو گی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح“ میں اس میں سے صرف کھجور کے ساتھ ککڑی کھانے والا حصہ مذکور ہے ، اور امام ابن ماجہ نے اس میں سے پشت کے گوشت کے سب سے زیادہ پاکیزہ گوشت ہونے کا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے اور وہ متروک ہے ۔