مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فِي فَضْلِ أَهْلِ الْبَيْتِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - . باب: اہل بیت کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا نَائِمٌ عَلَى الْمَنَامَةِ ، فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى شَاةٍ لَنَا بَكِيءٌ ، فَحَلَبَهَا فَدَرَّتْ ، فَجَاءَ الْحَسَنُ فَنَحَّاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : كَأَنَّهُ أَحَبُّهُمَا إِلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّهُ اسْتَسْقَى قَبْلَهُ " . ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي وَإِيَّاكِ وَهَذَيْنِ وَهَذَا الرَّاقِدَ فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا ، وَالْحَسَنُ ، وَالْحُسَيْنُ ، نِيَامٌ فِي لِحَافٍ - أَوْ فِي شِعَارٍ - فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى إِنَاءٍ لَنَا ، فَصَبَّ فِي الْقَدَحِ ، فَجَاءَ بِهِ ، فَوَثَبَ الْحُسَيْنُ ، فَقَالَ بِيَدِهِ ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : كَأَنَّهُ أَحَبُّهُمَا إِلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنَّهُ اسْتَسْقَى قَبْلَهُ ، وَإِنِّي وَإِيَّاكِ ، وَهَذَيْنِ ، وَهَذَا الرَّاقِدَ ، فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَقَامَ إِلَى قِرْبَةٍ لَنَا ، فَجَعَلَ يُمَصِّرُهَا فِي الْقَدَحِ ، وَقَالَ : " إِنَّهُمَا عِنْدِي بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ " . ¤ وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے ، میں اس وقت سویا ہوا تھا ، حسن اور حسین نے پینے کے لئے کچھ مانگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری بکری کی طرف اٹھ کے گئے ، جس کا دودھ کم آتا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دودھ دوہ لیا تو وہ زیادہ نکل آیا ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک طرف کیا ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یوں لگتا ہے جیسے ان دونوں میں سے یہ آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے ۔ یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ، بلکہ اس نے اس سے پہلے پینے کے لیے مانگا تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اور تم اور یہ دونوں ( بچے ) اور یہ سویا ہوا شخص ( یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) قیامت کے دن ایک ہی جگہ پر ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے ، میں ، حسن اور حسین ایک لحاف میں سو رہے تھے ، حسن نے پینے کے لئے کچھ مانگا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر ہمارے برتن کی طرف گئے ، آپ نے اس میں سے پیالے میں پانی انڈیلا اور اسے لے کے آئے ، اسی دوران حسین بھی اٹھ گیا ، اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا ( یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا کہ ابھی ٹھہر جاؤ ) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یوں لگتا ہے جیسے یہ ان دونوں میں سے آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس نے پہلے مانگا تھا ، بے شک میں اور تم اور یہ دونوں ( بچے ) اور یہ سویا ہوا شخص ، قیامت کے دن ایک ہی جگہ پر ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر ہمارے مشکیزے کی طرف گئے ، آپ نے اسے پیالے میں نچوڑنا شروع کیا اور فرمایا : یہ دونوں میرے نزدیک ایک ہی مرتبے کے ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔