مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ الْوُضُوءِ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ . باب: عورت کے بچائے ہوئے پانی سے وضو کرنا
وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ يَأْكُلُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَالَ : " لَا يَأْكُلُ حَتَّى يَتَوَضَّأَ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ يَرْقُدُ الْجُنُبُ ؟ قَالَ : " مَا أُحِبُّ أَنْ يَرْقُدَ وَهُوَ جُنُبٌ حَتَّى يَتَوَضَّأَ ; فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يُتَوَفَّى ، فَلَا يَحْضُرُهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ الْحَرَّانِيُّ الطَّرَائِقِيُّ ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : صَدُوقٌ ، وَقَالَ أَبُو عَرُوبَةَ الْحَرَّانِيُّ وَابْنُ عَدِيٍّ : لَا بَأْسَ بِهِ ، يَرْوِي عَنْ مَجْهُولِينَ ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو أَحْمَدَ الْحَاكِمُ : يَرْوِي عَنْ قَوْمٍ ضِعَافٍ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُشْبِهُ بَقِيَّةَ فِي رِوَايَتِهِ عَنِ الضُّعَفَاءِ . ¤سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم میں سے کوئی ایک جنابت کی حالت میں کچھ کھا سکتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ اُس وقت تک کچھ نہ کھائے ، جب تک وضو نہیں کر لیتا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا جنبی شخص سو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ وہ جنابت کی حالت میں سو جائے ، جب تک وہ وضو نہیں کر لیتا ، کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اگر وہ ایسی حالت میں انتقال کر گیا ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام اس کے پاس نہیں آئیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے عثمان بن عبدالرحمن نے عبدالحمید بن یزید سے روایت کیا ہے ، اور عثمان بن عبدالرحمن نامی راوی ، حرانی ، طرائقی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ صدوق ہے ، ابوعروبہ حرانی اور ابن عدی کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اس نے مجبول لوگوں سے روایت نقل کی ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور ابو أحمد حاکم کہتے ہیں : اس نے ضعیف لوگوں سے روایات نقل کی ہیں ، ابوحاتم بیان کرتے ہیں : ضعیف لوگوں سے روایت نقل کرنے میں یہ بقیہ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ۔