مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فِي فَضْلِ أَهْلِ الْبَيْتِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - . باب: اہل بیت کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجُحْفَةَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي لَا أَجِدُ لِنَبِيٍّ إِلَّا نِصْفَ عُمُرِ الَّذِي قَبْلَهُ ، وَإِنِّي أُوشِكُ أَنْ أُدْعَى فَأُجِيبَ ، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ ؟ " . قَالُوا : نَصَحْتَ قَالَ : " أَلَيْسَ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ ، وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ ؟ " . قَالُوا : نَشْهَدُ ، قَالَ : فَرَفَعَ يَدَهُ فَوَضَعَهَا عَلَى صَدْرِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَنَا أَشْهَدُ مَعَكُمْ " . ثُمَّ قَالَ : " أَلَا تَسْمَعُونَ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " فَإِنِّي فَرَطٌ عَلَى الْحَوْضِ ، وَأَنْتُمْ وَارِدُونَ عَلَى الْحَوْضِ ، وَإِنَّ عَرْضَهُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَبُصْرَى ، فِيهِ أَقْدَاحٌ عَدَدَ النُّجُومِ مِنْ فِضَّةٍ ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِي الثَّقَلَيْنِ " . فَنَادَى مُنَادٍ : وَمَا الثَّقَلَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " كِتَابُ اللَّهِ ، طَرَفٌ بِيَدِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَطَرَفٌ بِأَيْدِيكُمْ ، فَتَمَسَّكُوا بِهِ لَا تَضِلُّوا ، وَالْآخَرُ عَشِيرَتِي ، وَإِنَّ اللَّطِيفَ الْخَبِيرَ نَبَّأَنِي أَنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ ، فَسَأَلْتُ ذَلِكَ لَهُمَا رَبِّي ، فَلَا تَقَدَّمُوهُمَا فَتَهْلَكُوا ، وَلَا تَقْصِرُوا عَنْهُمَا فَتَهْلَكُوا ، وَلَا تَعْلَمُوهُمَا فَهُمْ أَعْلَمُ مِنْكُمْ " . ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ : " مَنْ كُنْتُ أَوْلَى بِهِ مِنْ نَفْسِهِ فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " . ¤سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” جحفہ “ کے مقام پر پڑاؤ کیا ، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ” میں نے جس بھی نبی کو پایا اس کی عمر اس سے پہلے والے نبی سے نصف ہوتی تھی اور عنقریب مجھے بلا لیا جائے گا ، تو مجھے جانا ہو گا ، تو تم لوگ کیا کہتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : آپ نے خیرخواہی کر دی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، جنت حق ہے اور جہنم حق ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک بلند کیا اور اسے اپنے سینے پر رکھا اور ارشاد فرمایا : میں تمہارے ساتھ گواہی دیتا ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ سنتے نہیں ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا اور تم حوض پر میرے پاس آؤ گے اس حوض کی چوڑائی اتنی ہے جتنا صنعاء اور بصریٰ کے درمیان فاصلہ ہے ، اس کے پاس آسمان کے ستاروں کی تعداد میں چاندی کے بنے ہوئے پیالے ہیں ، تو تم اس بات کا جائزہ لینا کہ تم میرے بعد دو چیزوں کے بارے میں کیا کرو گے ؟ ایک منادی نے پکار کر یہ کہا: یا رسول اللہ ! دو چیزوں سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی کتاب ، جس کا ایک کنارہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ایک کنارہ تمہارے ہاتھوں میں ہے ، تم اسے مضبوطی سے تھام کے رکھنا ، تم گمراہ نہیں ہو گے اور دوسرا میری عشیرت ، لطیف اور خبیر ذات نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے اس وقت تک جدا نہیں ہوں گی یہاں تک کہ یہ دونوں حوض پر میرے پاس آ جائیں گی ، تو میں نے ان دونوں کے لئے اپنے پروردگار سے دعا مانگی ہے ، تو تم ان دونوں سے آگے نکلنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ تم ہلاکت کا شکار ہو جاؤ گے ، اور تم ان دونوں کے بارے میں کوتاہی بھی نہ کرنا ورنہ تم ہلاکت کا شکار ہو جاؤ گے ، اور تم ان دونوں کو تعلیم دینے کی کوشش بھی نہ کرنا کیونکہ یہ تم سے زیادہ علم رکھتے ہیں ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا : ” میں جس کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ قریب ہوں ، تو علی بھی اس کا ولی ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھتا ہو ، تو بھی اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھتا ہو ، تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “