حدیث نمبر: 14960
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ ، انْصَرَفَ إِلَى الطَّائِفِ ، حَاصَرَهَا سَبْعَ عَشْرَةَ - أَوْ تِسْعَ عَشْرَةَ - ثُمَّ قَامَ خَطِيبًا ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أُوصِيكُمْ بِعِتْرَتِي خَيْرًا ، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُقِيمُنَّ الصَّلَاةَ ، وَلَتُؤْتُنَّ الزَّكَاةَ ، أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا مِنِّي - أَوْ كَنَفْسِي - يَضْرِبُ أَعْنَاقَكُمْ " . ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ ، فَقَالَ : " هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ جَبْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم طائف کی طرف تشریف لے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سترہ یا شاید انیس دن تک اس کا محاصرہ کیے رکھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ” میں تمہیں اپنی عترت کے بارے میں بھلائی کی تلقین کرتا ہوں ، تم سے ملنے کی جگہ حوض ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، تم لوگ نماز ضرور قائم کرو گے ، اور زکوۃ ضرور ادا کرو گے ، ورنہ میں تمہاری طرف اپنے میں سے ایک شخص کو بھیجوں گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) تمہاری طرف اس شخص کو بھیجوں گا جو میری طرح ہو گا ، اور وہ تمہاری گردنیں اڑائے گا ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا : اور وہ یہ ہو گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن جبر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14960
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف