مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ الْوُضُوءِ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ . باب: عورت کے بچائے ہوئے پانی سے وضو کرنا
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيِّ قَالَ : أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا طَعَامًا ، ثُمَّ قَالَ : " اسْتُرْ عَلَيَّ حَتَّى أَغْتَسِلَ " . فَقُلْتُ : كُنْتَ جُنُبًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ : إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّكَ أَكَلْتَ وَأَنْتَ جُنُبٌ ، فَقَالَ : " نَعَمْ ، إِذَا تَوَضَّأْتُ أَكَلْتُ وَشَرِبْتُ ، وَلَا أَقْرَأُ وَلَا أُصَلِّي حَتَّى أَغْتَسِلَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . وَفِيهِ ضَعْفٌ . وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ . ¤سیدنا مالک بن عبداللہ غافقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا ، پھر آپ نے فرمایا : میرے لئے پردہ کر دو تاکہ میں غسل کر لوں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ جنابت کی حالت میں تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! راوی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی : اس کا یہ کہنا ہے کہ آپ نے جنابت کی حالت میں کھا لیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! جب میں وضو کر لوں ، تو میں کھا لیتا ہوں ، اور پی لیتا ہوں ، لیکن میں قرأت اُس وقت تک نہیں کرتا ، اور نماز اُس وقت تک نہیں پڑھتا ، جب تک میں غسل نہ کر لوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے اور اس میں ایک راوی ایسا ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔