حدیث نمبر: 14909
وَعَنْ ابْنِ شَوْذَبٍ قَالَ : جَعَلَ أَبُو أَبِي عُبَيْدَةَ يَتَصَدَّى لَهُ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَجَعَلَ أَبُو عُبَيْدَةَ يَحِيدُ عَنْهُ ، فَلَمَّا أَكْثَرَ قَصَدَهُ أَبُو عُبَيْدَةَ فَقَتَلَهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ : ( لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ) ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابن شوذب بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے والد ان کے سامنے آتے رہے لیکن سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان سے پہلو تہی کرتے رہے جب ان کے والد ان کے سامنے زیادہ آنے لگے تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کر دیا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” تم اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی قوم کو نہیں پاؤ گے کہ وہ ان سے دوستی رکھیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہو ، خواہ ( مخالفت کرنے والے ) ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ، یہ ( مؤمنین ) وہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان نقش کر دیا ہے ، اور اپنی طرف کی روح کے ذریعے ان کی تائید کی ہے ، وہ ( اللہ تعالیٰ ) ان ( مؤمن ) لوگوں کو جنتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہتی ہوں گی ، اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ، اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور وہ لوگ اس سے راضی ، یہ لوگ اللہ کا گروہ ہیں اور خبردار ! بیشک اللہ کے گروہ ( کے افراد ) ہی کامیابی پانے والے ہیں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14909
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2762) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (360)»