حدیث نمبر: 14876
وَعَنِ عُرْوَةَ قَالَ : سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، قَدِمَ مِنَ الشَّامِ بَعْدَمَا رَجِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَدْرٍ ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ ، قَالَ : وَأَجْرِي - يَا رَسُولَ اللَّهِ - زَعَمُوا ؟ قَالَ : " وَأَجْرُكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَرُوِيَ عَنِ الزُّهْرِيِّ مِثْلُهُ . ¤
محمد محی الدین

عروہ بیان کرتے ہیں : سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بدر سے واپسی پر شام سے تشریف لائے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حصہ مقرر کیا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا اجر ؟ لوگوں کا اس بارے میں بات کرنا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں اجر بھی ملے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ انہوں نے زہری کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14876
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (338)»