حدیث نمبر: 14868
وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَدْرًا وَمَا لِي غَيْرُ شَعْرَةٍ وَاحِدَةٍ ، ثُمَّ أَكْثَرَ اللَّهُ لِي مِنَ اللِّحَى بَعْدُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَقَالَ : وَقَوْلُهُ " وَمَا لِي غَيْرُ شَعْرَةٍ " يَعْنِي : مَا لِي إِلَّا ابْنَةٌ وَاحِدَةٌ " ثُمَّ أَكْثَرَ اللَّهُ لِي مِنَ اللِّحَى " يَعْنِي : مِنَ الْوَلَدِ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کی تو اس وقت میرا ( داڑھی کا ) صرف ایک بال تھا پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے میری داڑھی کے بال زیادہ کر دیے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ یہ فرماتے ہیں : ان کا یہ کہنا ” میرا صرف ایک بال تھا “ اس سے مراد یہ ہے کہ میری صرف ایک بیٹی تھی اور ان کا یہ کہنا کہ ” پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے میری داڑھی کے بال زیادہ کر دیے “ اس سے مراد یہ ہے کہ میری اولاد زیادہ ہو گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14868
درجۂ حدیث محدثین: ورجال البزار رجال الصحيح.
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2577)»