حدیث نمبر: 14861
وَعَنْ سَعْدٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَمَعَ لَهُ أَبَوَيْهِ قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَحْرَقَ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَعْدُ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي " . قَالَ : فَنَزَعْتُ بِسَهْمٍ لَيْسَ فِيهِ نَصْلٌ ، فَأَصَبْتُ جَنْبَيْهِ ، فَوَقَعَ وَانْكَشَفَتْ عَوْرَتُهُ ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى نَوَاجِذِهِ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَسَدِ بْنِ مُوسَى وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے اپنے ماں باپ کو جمع کیا تھا ( یعنی یہ فرمایا تھا کہ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ) مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مسلمانوں کو آگ لگائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے سعد تم تیر پھینکو ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ، تو میں نے ایک تیرا الگ کیا جس پر پھل ( لوہے کا ٹکڑا ) نہیں تھا ، وہ میں نے اس شخص کے پہلوؤں پر مارا تو وہ شخص گر گیا اور اس کی شرمگاہ سے کپڑا ہٹ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ، یہاں تک کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اطراف کے دانت نظر آ گئے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف اسد بن موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14861
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (315)»