مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِي مَنَاقِبِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . باب: حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے مناقب کا مجموعہ
عَنْ سَعْدٍ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسَتَخْبِرُ لَهُ خَبَرَ قَوْمٍ ، فَذَهَبْتُ وَأَنَا أَسْعَى حَتَّى صِرْتُ إِلَى الْقَوْمِ ، ثُمَّ جِئْتُ وَأَنَا أَمْشِي عَلَى هَيْئَتِي حَتَّى صِرْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَنِي ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " ذَهَبْتَ شَدِيدًا ، ثُمَّ جِئْتَ عَلَى هَيْئَتِكَ ؟ " . - أَوْ كَمَا قَالَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَسْعَى ، فَيَظُنَّ بِيَ الْقَوْمُ أَنِّي قَدْ فَرَقْتُ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ سَعْدًا لَمُجَرِّبٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تاکہ میں دشمن کے بارے میں خبر معلوم کر کے آؤں ، میں دوڑتا ہوا گیا یہاں تک کہ لوگوں کے پاس پہنچ گیا پھر جب میں واپس آیا تو عام رفتار سے چلتا ہوا آیا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے صورت حال دریافت کی ، میں نے آپ کو بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم گئے تھے ، تو بھاگ کر گئے تھے ، اور جب واپس آئے تو عام رفتار سے آئے ہو ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے یہ بات بری لگی کہ میں دوڑ کر آؤں اور دشمن میرے بارے میں یہ گمان کرے کہ شاید یہ بھاگ کر جا رہا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سعد ایک تجربہ کار آدمی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔