مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ : الْتَقَى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ يَوْمَ الْجَمَلِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِلزُّبَيْرِ : إِنْ لَمْ تُقَاتِلْ مَعَنَا فَلَا تُعِنْ عَلَيْنَا . فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أَتُحِبُّ أَنْ أَرْجِعَ عَنْكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَكَيْفَ لَا أُحِبُّ ذَلِكَ وَأَنْتَ ابْنُ عَمَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَابْنُ خَالِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَوَارِيُّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَوْلُهُ : حَوَارِيُّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي : خُلْصَانَُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَسِلْفُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لِأَنَّ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ زَوْجُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ زَوْجُ الزُّبَيْرِ . ¤ وَقَوْلُهُ : سَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَنَّ الزُّبَيْرَ أَوَّلُ مَنْ سَلَّ سَيْفًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ . ¤ وَقَوْلُهُ : ابْنُ عَمَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أُمُّهُ صَفِيَّةُ عَمَّةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ وَقَوْلُهُ : ابْنُ خَالِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لِأَنَّ أُمَّ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آمِنَةُ بِنْتُ وَهْبٍ وَالزُّبَيْرُ مِنْ رَهْطِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ . ¤زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا جنگ جمل کے دن آمنا سامنا ہوا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ ہمارے ساتھ مل کے جنگ میں حصہ نہیں لیتے تو ہمارے خلاف بھی مدد نہ کریں ، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو چھوڑ کر واپس چلا جاؤں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! میں اس بات کو کیسے پسند نہیں کروں گا ؟ جبکہ آپ اللہ کے رسول کے پھوپھی زاد ہیں ، اور اللہ کے رسول کے ماموں زاد ہیں ، اور اللہ کے رسول کے حواری ہیں ، اور اللہ کے رسول کی تلوار ہیں ۔ ان کا یہ کہنا کہ اللہ کے رسول کے حواری ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے رسول کے انتہائی قریبی ہیں ، اور اللہ کے رسول کے سلف ہونے سے مراد یہ ہے کہ سیدہ عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ تھیں اور سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ تھیں ۔ ان کے یہ الفاظ اللہ کے رسول کی تلوار ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے اللہ کی راہ میں تلوار سونتی تھی اور ان کے یہ الفاظ کہ اللہ کے رسول کے پھوپھی زاد ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں اور ان کا یہ کہنا کہ اللہ کے رسول کے ماموں زاد ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ سیدہ آمنہ بنت وہب رضی اللہ عنہا تھیں اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اس خاندان میں سے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے ۔