حدیث نمبر: 14804
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ : سَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ : " طَلْحَةَ الْخَيْرِ " . وَفِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ذِي الْعَشِيرَةِ : " طَلْحَةَ الْفَيَّاضَ " . وَيَوْمَ حُنَيْنَ : " طَلْحَةَ الْجُودِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : بِالسِّينِ وَالشِّينِ جَمِيعًا ، فَالسِّينُ مِنَ الْعُسْرَةِ وَبِالشِّينِ مَوْضِعٌ . وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ الطَّلْحِيُّ وُثِّقَ وَضُعِّفَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ” طلحہ الخیر “ کا نام دیا تھا اور غزوہ تبوک ذوالعشیرہ میں ” طلحہ فیاض“ کا نام دیا تھا اور جنگ حنین میں ” طلحہ الجود“ کا نام دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ کہا: ہے کہ یہ لفظ ( ذوالعشیرہ ) سین اور شین دونوں کے ساتھ منقول ہے ، اگر سین ہو تو یہ لفظ عسرت سے منقول ہو گا اور اگر شین ہو تو یہ ایک جگہ کا نام ہے ۔ اس روایت میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی سلیمان بن ایوب طلحی ہے اسے ثقہ قرار دیا گیا ہے ، اور ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14804
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (218 و 197)»