مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ حَالَتِهِ فِي الْآخِرَةِ . باب: آخرت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حالت کا بیان
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا تَرْضَى يَا عَلِيُّ إِذَا جَمَعَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ حُفَاةً عُرَاةً مُشَاةً قَدْ قَطَعَ أَعْنَاقَهُمُ الْعَطَشُ فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ يُدْعَى إِبْرَاهِيمُ فَيُكْسَى ثَوْبَيْنِ أَبْيَضَيْنِ ، ثُمَّ يَقُومُ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ ، ثُمَّ يُفَجَّرُ مَثْعَبٌ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَى حَوْضِي ، وَحَوْضِي أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ بُصَرَى وَصَنْعَاءَ ، فِيهِ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ قِدْحَانٌ مِنْ فِضَّةٍ ، فَأَشْرَبُ وَأَتَوَضَّأُ وَأُكْسَى ثَوْبَيْنِ أَبْيَضَيْنِ ، ثُمَّ أَقُومُ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ ، ثُمَّ تُدْعَى فَتَشْرَبُ ، وَتَتَوَضَّأُ ، وَتُكْسَى ثَوْبَيْنِ أَبْيَضَيْنِ ، فَتَقُومُ مَعِي وَلَا أُدْعَى إِلَى خَيْرٍ إِلَّا دُعِيتَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ مِيثَمٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ” اے علی ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ جب اللہ تعالیٰ تمام انبیاء کرام کو ایک میدان میں اکٹھا کرے گا یوں کہ ان کے پاؤں میں جوتے نہیں ہوں گے جسم پر لباس نہیں ہوں گے وہ پیدل ہوں گے ، اور پیاس نے ان کی بری حالت کی ہوئی ہو گی سب سے پہلے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بلایا جائے گا اور انہیں دو سفید کپڑے پہنائے جائیں گے پھر وہ عرش کے دائیں طرف کھڑے ہو جائیں گے پھر جنت میں سے ایک پرنالہ پھوٹے گا جو میرے حوض کی طرف آئے گا ، اور میرا حوض اس سے زیادہ بڑا ہے جتنا بصریٰ اور صنعاء کے درمیان فاصلہ ہے اس کے کنارے پر آسمان کے ستاروں کی تعداد میں چاندی کے بنے ہوئے پیالے ہوں گے میں اس میں سے پیوں گا اور وضو کروں گا ، مجھے دو سفید کپڑے پہنائے جائیں گے پھر میں عرش کے دائیں طرف کھڑا ہو جاؤں گا پھر تمہیں بلایا جائے گا ، اور تم پیو گے اور تم وضو کرو گے ، اور تمہیں دو سفید کپڑے پہنائے جائیں گے تم میرے ساتھ کھڑے ہو جاؤ گے مجھے جس بھی بھلائی کی طرف بلایا جائے گا تمہیں بھی اس بھلائی کی طرف بلایا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عمران بن میثم ہے اور وہ کذاب ہے ۔