مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ بِشَارَتِهِ بِالْجَنَّةِ . باب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جنت کی خوشخبری ملنا
وَعَنْ سَلْمَى - امْرَأَةِ أَبِي رَافِعٍ - أَنَّهَا قَالَتْ : إِنِّي لَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْأَسْوَاقِ ، فَقَالَ : " لَيَطْلُعَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . إِذْ سَمِعْتُ الْخَشَفَةَ فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ الرَّافِعِيُّ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُجَرِّحْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سلمیٰ بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ” اسواق “ کے مقام پر موجود تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے سامنے اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک فرد آئے گا ۔ “ راوی خاتون کہتی ہیں اس دوران میں نے کسی کے آنے کی آہٹ سنی تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سامنے آ گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل رافعی ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس پر جرح نہیں کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔