مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا أَوْصَى بِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: اس چیز کا بیان کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں وصیت کی تھی
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ وَصِيًّا فَمَنْ وَصِيُّكَ ؟ فَسَكَتَ عَنِّي ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ رَآنِي فَقَالَ : " يَا سَلْمَانُ " . فَأَسْرَعْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ : لَبَّيْكَ . قَالَ : " تَعْلَمُ مَنْ وَصِيُّ مُوسَى ؟ " . قَالَ : نَعَمْ ، يُوشَعُ بْنُ نُونٍ . قَالَ : " لِمَ ؟ " . قُلْتُ : لِأَنَّهُ كَانَ أَعْلَمَهُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ : " فَإِنَّ وَصِيِّي ، وَمَوْضِعَ سِرِّي ، وَخَيْرَ مَنْ أَتْرُكُ بَعْدِي ، وَيُنْجِزُ عِدَتِي ، وَيَقْضِي دَيْنِي : عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : [ قَوْلُهُ ] : " وَصِيِّي " [ يَعْنِي ] أَنَّهُ أَوْصَاهُ بِأَهْلِهِ لَا بِالْخِلَافَةِ . وَقَوْلُهُ : " وَخَيْرُ مَنْ أَتْرُكُ بَعْدِي [ يَعْنِي ] مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَفِي إِسْنَادِهِ نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے ، تو آپ کا وصی کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، اس کے بعد جب آپ نے مجھے دیکھا ، تو آپ نے فرمایا : اے سلمان ! میں جلدی سے آپ کے پاس آیا ، میں نے عرض کی : میں حاضر ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا وصی کون تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا یوشع بن نون علیہ السلام تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں تھے ؟ میں نے عرض کی : کیونکہ اس وقت وہ ان لوگوں میں سب سے زیادہ علم رکھتے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرا وصی اور میرے راز کا رازدان اور اپنے بعد میں جن لوگوں کو چھوڑ دوں گا ، ان میں سے سب سے زیادہ بہتر شخص وہ ہے ، جو میرے وعدے کو پورا کرے گا ، میرے قرض کو ادا کرے گا ، اور وہ علی بن ابوطالب ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان : ” میرا وصی ۔ “ اس سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے اہلخانہ کے بارے میں وصی مقرر کیا تھا ، یہ مراد نہیں ہے کہ خلافت کے بارے میں وصی مقرر کیا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان : ” جسے میں اپنے بعد چھوڑوں گا ان میں سب سے بہتر ۔ “ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کے اہل بیت میں سے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناصح بن عبداللہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔