مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي مَنْزِلَتِهِ وَمُؤَاخَاتِهِ . باب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت اور آپ کے بھائی چارے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا زَوَّجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيًّا فَاطِمَةَ قَالَتْ فَاطِمَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، زَوَّجَتْنِي مِنْ رَجُلٍ فَقِيرٍ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا تَرْضَيْنَ يَا فَاطِمَةُ أَنَّ اللَّهَ اخْتَارَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ رَجُلَيْنِ ، أَحَدُهُمَا أَبَاكِ وَالْآخَرُ زَوْجَكِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ . قَالَ الذَّهَبِيُّ : إِبْرَاهِيمُ هَذَا لَا يُعْرَفُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ ضَعِيفٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کی ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایک ایسے شخص سے میری شادی کی ہے ، جو غریب ہے ، اور اس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے فاطمہ ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اہل زمین میں سے دو افراد کو منتخب کیا ، ان میں سے ایک تمہارا باپ ہے اور دوسرا تمہارا شوہر ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ابراہیم بن حجاج کے حوالے سے امام عبدالرزاق سے نقل کی ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : ابراہیم نامی یہ راوی معروف نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔ انہوں نے اسے ایک اور ضعیف سند کے ساتھ بھی نقل کیا ہے ۔