مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنْزِلَتِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . باب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت کا بیان
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ حِينَ أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ : " إِنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ أَنْ أُقِيمَ أَوْ تُقِيمَ " . فَخَلَّفَهُ . فَقَالَ نَاسٌ : مَا خَلَّفَهُ إِلَّا شَيْءٌ كَرِهَهُ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَتَضَاحَكَ ثُمَّ قَالَ : " يَا عَلِيُّ ، أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ؟ إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا : مَيْمُونٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب جنگ میں حصہ لینے کا ارادہ کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ” یہ بات ضروری ہے کہ یا میں مقیم ہو جاؤں یا تم مقیم رہو ۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے چھوڑ دیا ، کچھ لوگوں نے یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس لئے پیچھے چھوڑا ہے کہ کوئی ایسی بات ہوئی ہو گی جو آپ کو ناپسند ہو گی ، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس بارے میں اطلاع دی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے علی ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے تھی ، البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند میں ایک راوی میمون ابوعبداللہ بصری ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔