حدیث نمبر: 14645
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ : " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ؟ إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ " . ¤ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي بَلْجٍ الْكَبِيرِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ” کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے تھی البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے ، جو سیدنا ہارون کی تھی ۔ “ امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف ابوبلج کبیر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14645
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2525) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11087)»